افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدیhttps://jyotirdee.blogspot.com/2024/02/blog-post.html
افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدی چھوٹا سا اسٹیشن تھا- دیرسے کوئی ٹرین نہیں گزری تھی- مائی نے کچھ ہلچل محسوس کی توھڈ بڈاکر پھٹے بانس کا ڈنڈا پھٹکاکروہ کھڈی ہوگی- کانوں تک شور قریب پھونچ نے لگا تھا- ساڈی کے پللو سے اسنے سر کو ڈھک کر نپے- تلے قدم بڈھاتی ہوی ڈنڈے کا سیرا پکڑے وہ اسٹشن کے پلیٹفارم پرادھر ادھر ڈولتی اپنی دوسری مٹھی کو ہوا میں اچھلتی ہوئی آگے آگے بڑھنے لگی تھی- اس نابینہ عورت کو اکثر کوی غیر شعوری طور پردھکّہ دیکر آگے بڑھ جاتا تھا- کوئی پیچھے مڑکرشرمندگی سے 'معاف کرنا مائی؛ یا 'سوری' یا اسکا جلا ہوا چہرہ دیکھ کر 'کشما' مانگ لیتا- اورتب منہ آسمان کی جانب اٹھاکر وہ مائی طنزیہ مسکان کے ساتھ آگے بڑھ جاتی تھی- مائ، یپلیٹفارم کے شور شرابے میں بھی ڈونگرکی بیساکھیوں کی ٹخ ٹخ کی آواز کو پہچان لیتی تھی- وہ یہ بھی جان لیتی تھی کہ اس آواز کا فاصلہ کتنا ہے- یہ آواز اسی کی ہے یا کسی اور کی- جب وہ آواز قریب آکرخاموش ہوجاتی تب اسے معلوم ہو جاتا کہ ڈونگراسکے پاس آکر روک گیا ہے-"اور آگے مت بڑھنآ مائی، پیچھے سرک لے-گڈڈی کی رفتار تجھے...