افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدیhttps://jyotirdee.blogspot.com/2024/02/blog-post.html
افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدی
چھوٹا سا اسٹیشن تھا- دیرسے کوئی ٹرین نہیں گزری تھی- مائی نے کچھ ہلچل محسوس کی توھڈ بڈاکر پھٹے بانس کا ڈنڈا پھٹکاکروہ کھڈی ہوگی- کانوں تک شور قریب پھونچ نے لگا تھا- ساڈی کے پللو سے اسنے سر کو ڈھک کر نپے- تلے قدم بڈھاتی ہوی ڈنڈے کا سیرا پکڑے وہ اسٹشن کے پلیٹفارم پرادھر ادھر ڈولتی اپنی دوسری مٹھی کو ہوا میں اچھلتی ہوئی آگے آگے بڑھنے لگی تھی-
اس نابینہ عورت کو اکثر کوی غیر شعوری طور پردھکّہ دیکر آگے بڑھ جاتا تھا- کوئی پیچھے مڑکرشرمندگی سے 'معاف کرنا مائی؛ یا 'سوری' یا اسکا جلا ہوا چہرہ دیکھ کر 'کشما' مانگ لیتا- اورتب منہ آسمان کی جانب اٹھاکر وہ مائی طنزیہ مسکان کے ساتھ آگے بڑھ جاتی تھی-
مائ، یپلیٹفارم کے شور شرابے میں بھی ڈونگرکی بیساکھیوں کی ٹخ ٹخ کی آواز کو پہچان لیتی تھی- وہ یہ بھی جان لیتی تھی کہ اس آواز کا فاصلہ کتنا ہے- یہ آواز اسی کی ہے یا کسی اور کی- جب وہ آواز قریب آکرخاموش ہوجاتی تب اسے معلوم ہو جاتا کہ ڈونگراسکے پاس آکر روک گیا ہے-"اور آگے مت بڑھنآ مائی، پیچھے سرک لے-گڈڈی کی رفتار تجھے اپنے لپیٹے میں لے لگی- پیچھے ہٹ جا ، گڈڈی پلیٹفورم سے لگنے والی ہے..."
گاڑی کے لگتے ہی ڈونگربھیکھ مانگنا شروع کردیتا ہے- 'رام جی بھلا کرینگے، نیےگھر میں بلاینگے- مودی جی کی مورتی کے درشن ہونگے....ایک ٹیم کی روٹی کا سوال ہے بابا،. ...آپکو رام جی، بھگوان جی بہت پیسہ دیگا..." کھنکھارکرڈونگڑ نے مائی کوڈانٹلگائی،"پیچھے ہہٹ کر چل ...سنگل ہو گیا ہے-"
"کتنی بار کہا ہے کہ صحیح بولا کر- سنگل نہی سگنل-" مائی نے ہنستے ہوے اسے ٹوکا،" لے، میں پیچھے ہٹ گی- آنکھیں نہیں ہیں تو میں کیا کرون-دکھائی دیتا تو کیا میں تجھے کہنے کا موقعہ دیتی؟ "
ٹرین رینگنے لگتی ہے اوراسٹیشن کا شور تیز ہونے لگ جاتا ہے- کسی نے پلیٹفورم پر مائی کو ایک کمّل ، چادر اور ٥٠٠ روپے دے تھے- وہ منہ اوپر اٹھاکر ہنسنے لگ جاتی، "بھگوان سبکا بھلا کرین، جگ جگ جین وہ سب..." اسنے ڈنڈے سے ٹٹولکر ڈونگر کو پکارا،"کہاں ہے ڈونگر؟ ..گاڑی تو چلی گی ؟"
"میں تیرا سامان سمیٹ رہا ہوں-" اسنے جواب دیا،" آج سامان بہت ہے ...لا، وہ کمبل مجھے پکڑا دے- تو نہیں سنبھال پایگی-ڈببے بھی ادھر دے دے- ان میں میٹھای ھوگی- کھانا بھی ہو سکتا ہے، تو گیٹ کی طرف چل، میں باہربرگد والے مندر کے چبوترے پر تیرا انتظار کرونگا-"
ڈونگڈ کے جاتے ہی مائی بھی ڈنڈا پھٹکاتی ہوئ پلیٹ فورم سے باہر نکل جاتی ہے- سلیم تانگے والے کا سلام لیکر وہ اسکے بچچوں کی خیر خبرلینے لگ جاتی ہے-"موئی اسٹیشن پر کتنی بھیڈ بڑھ جاتی ہے -بھیڈ میں سب اندھے ہو جاتے ہیں - کسی کو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے- بس دوڑو، دوڑ کر، دوسرے کو گراکر اپنے سفر پراگے بڑھ جاؤ، منزل تک پہنچ جاؤ- دو منٹ کا اسٹیشن کتنا کچھ بتا دیتا ہے- ایک ٹرین آتی ہے، دوسری چلی جاتی ہے- لوگ ادھر بھی بھاگ رہے ہوتے ہیں-ادھر بھی-
چبوترے تک پہونچتے ہی یکایک مائی کا دل ایک خبر سن کر ہل جاتا ہے-"پھر...!"رفتہ رفتہ اسکی دھڈکنیں بڑھتی جاتی ہین- ڈونگرشاید کوئی دلخراش خبر لیکر لوٹا تھا - چبوترے پر کیی دوسرے لوگ بھی آکر جمعہ ہو گئے تھے-ڈونگر نے آکراطلاع دی- "میں آ گیا مائی،"سلیم میاں نے گھبراکر فورن پوچھ لیا، "سنا ہے کوئی١٠ ڈاؤن کے انجن کے اگے آ گیا تھا ...تبھی ٹرین لیٹ ہویی ہے...."
مائی کے کانوں میں آوازوں کا شوردیرسے گونج رہا تھا-'اف، سر کیسے کٹ کر گرا ہوگا-' لیسی نے بتایا،"کوئی بھلے گھر کی لڑکی لگتی تھی---" دلاور سنگھ قلی نے اتتلاح دی کہ"وہ لڑکی دیر سے وہاں کھڈی تھی-پتہ نہیں کون تھی وہ......" کوئی اورکہتا،" پولیس ہی پتہ لگا سکتی ہے...ادھر کی تو وہ لگتی نہیں تھی-" ڈونگڈ نے اپنی جانکاری دی-
مائی دھہڈکتا دل لئے چبوترے سے اٹھکر پیاو کی طرف چل پڑتی ہے- پیاوجھگگی بسستی کے پاس ہی تھا- ایک گہری سانس چھوڑکر اس نے اپنے آپ سے کہا، 'کاش! وہ اوس لڑکی کو دیکھ پاتی، کاش، اسے بھی سب کچھ دکھائی دے جاتا-اگر وہ پیٹ سے ہویی ہوگی تو اسکا ناجایزبچچہ بھی ساتھ کٹ گیا ہوگا، یقینن کسی نوجوان نے اسے دھوکھا دیا ہوگا- ہو سکتا ہے بیاہی ہو، ساس نند سے آجزہوکر خودکشی کر لی ہو، ہوسکتا ہے، اسکی جبرن شادی کی جا رہی ہو،....
مائی، کسی اجنبی آگ میں دہکنے لگتی ہے-سامنے ببول کے درخت کے نیچے بندہ غلام رسول تانگے والے کی گھوڈی یکایک ہنہنانے لگی- گردن ہلاکر مکّھیوں کو ہنکاتی تو گردن میں پڑے گھنگھرو گھنگھنا اٹھتے- مائی نے آواز دی، "غلام رسول...." گاڈھی خاموشی کے بیچ مائی نے پھر آواز لگائی-
"عایشہ........" جواب میں عایشہ کی آواز سنآی دئ،
"آ رہی ہوں مائی،آنٹا گوندھ رہی تھی، ہاتھ دھو رہی ہوں، بس ..؟" مائی نے اسکی بات مانو سنی انسنی کر دی-"مجھےچل تک پہونچھا دے، کچھ چکّر سے آ رہے ہیں-آج گولی بھی نہیں کھائی مین نے-سر گھوم رہا ہے-"
"نانی!شوگر کی گولی چھوڑتے نہیں ہیں ؟"
مائی نے ٹٹولکر عایشہ کی بانه پکڈ لی "چل، پہلے مجھے میری چال تک پہونچھا دے!"
راستہ میں عایشہ کو پتہ چلا کہ مائی کو رات بھر نیند نہیں آئ تھی، شاید سردی لگ گئی تھی- یا ٹرین سے کٹی لڑکی کی لاش کا ذکر اسپر ہاوی رہا تھا-بڑے بوڑھے سچ کہا کرتے ہیں کہ بدلتے موسم اور برسا ت کےبادلوں پر کبھی بھروسہ مت کرو،کبھی بھی برس سکتے ہیں-
عایشہ نے ڈنڈا ایک طرف سرہانے ٹیکایا اور مائی نے پیسوں کی تھیلی عایشہ کے سپرد کراپنی آنکھیں موندلین،لیکن اسکی ہدایتیں آواز پیدہ کرتی رہیں-"پوٹلی سے پیسے لیکر اپنی کتاب خرید لینا-پڑھائی میں ریایت نہیں-تیرے بابّا غلام رسول سے پوچھتی رہتی ہوں-زیادہ موبائل مت دیکھا کر- اچھے نمبرسے پاس ہوگی تو لیپ ٹاپ دلاونگی-تجھے بہت پڑھنا ہے، پوری بستی کو پڑھانا ہے-"
(دوسری قسط میں پڑھیں "کون تھی یہ خاتون؟)
--------------------
تویل افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدی
(دوسری قسط)
--------------
اسکی زندگی کا ماضی پھر لوٹ آیا تھا- وہی لڑکی، ویسی ہی ٹرین اور ویسی ہی اسکی دہشت سے بھری خوفناک آواز، دل کو چیرتی ہوئ گونج- وہی پرانا سا احساس کہ جب ٹرین گزرے تو جسم میں لغزش اور ارتعاش پیدہ ہو جائے-ٹرین کا جھونکا اسے پلیٹفورم پر اوندھے منہ گرا گیا تھا-اس ہونے والے حادثے کی ٹیسیں آج بھی تازہ تھیں-جانے کتنی دیرتک وہ پلیٹفورم کے آوٹرپر نیم بیہوشی میں پڑی رہی تھی- رفتہ رفتہ نیم بیہوشی ہوش میں تبدیل ہونے لگی-اسنے پلکیں جھپکائیں، محسوس ہوا کہ وہ اب بھی زندہ ہے- کوئی شخص اسے ہلا ڈلا رہا ہے- وہ کسمسائی، اٹھنے کی کوشش کی-سگنل کی تیز سرخ تابناک روشنی اندھیرے میں بھی خوف کا سامان بنی ہویی تھی- تبھی اسے لمبے چھرہرے قد-کاٹھی کا ایک سایہ دکھائی دیا جسنے اسے اٹھاکرسیمینٹ کے ایک پیلرکے سہارے بٹھایا اورپوچھا،"کون ہو تم؟" -نیم سرد ہوا کے ایک جھونکے نے زخمی لڑکی کے بدن کو چھوا تو درد سے وہ تڈپ اٹھی- وہ کراہی تو نوجوان بیچین ہو گیا- درد بڑھتا جا رہا تھآ-
چھرہرے بدن والے شخص نےچاروں طرف دیکھا، دور لالٹین لئے کچھ کامگارآتے دکھای دیے- نوجوان خوفزدہ ہو گیا - کہیں وہ کسی بڑے خطرے کا شکارتو نہیں ہو جاےگا؟ وہ سکپکا گیا تھا ٹیب، لیکن وہ پھر بھی ہارا نہیں- لڑکی نے تھرتھراتی-کانپٹی نگاہوں سےنوجوان کو اڑتی نگاہ سے دیکھا اور پھر گردن جھکا لی- لیکن لڑکے کو لڑکی پر بہت غصّہ آ رہا تھا، "مرنے کے لئے آئی تھیں؟" اسی نوجوان نے اسے پھر سہارا دیکراٹھایا- لڑکی کا جسم کانپ رہا تھا- نوجوان نے کہا-"میرا کوٹ بدن پر ڈال لو، سردی سے -تمہارے دانت بج رہے ہیں- دھیرے دھیرے چلنے کی کوشش کرو-ڈرو مت- میرے ساتھ ساتھ چلو، ادھر ریلوے ٹریک کے پاس سے سوپر فاسٹ ٹرینیں گزرتی ہیں-یہاں تنہا کھڑے ہونا بھی ٹھیک نہیں ہے-پاس میں ہی نشی یے چکّر لگاتے رہتے ہیں- گشتی پولیس کی ٹکڑی کسی بھی وقت ادھر سے گزرتے ہوے نامعقول سے سوالات کر سکتی ہے- ہو سکتا ہے ہمیں گرفتاربھی کر لے، رات کا وقت ہے، تمہیں اپنے ساتھ لے جائے اور.....تم میرے ساتھ چلو- پاس میں ہی میرا سرکاری قارتار ہے، وہیں-----!" اپنی کوشش کو بروے کار لاکر آخر کار لڑکی کو جائے وقوع سے ہٹاکر وہ ریلوے کولونی کے نزدیک تک پہونچ کر اپنے کوارٹرمیں داخل ہو گیا- اب بنفس نفیس وہ خطرے سے باہر تھا لیکن مشکلیں ابھی بھی منہ باے کھڑی تھین-کوئی دروازہ نہ کھٹکھٹا دے-کسی نے مخبری نہ کر دی ہو! کسی بھی طرف سے سی ارپی پولس کا گشتی دستہ ادھر نہ آ جاے... کولونی کے گیٹ پر اسے کسی نے نہ دیکھ لیا ہو! ذرا سی چووک اسکی نوکریکو خطرے میں ڈال سکتی ہے- پتہ نہیں یہ لڑکی کہان سے چل کرادھر آ پہنچی ہے"-الله رحم کر-"
درختوں سے گھرے اس کوارٹر میں کچھ دیر پہلے تک کتنا خوفناک سنناٹا پسرا ہوا تھا لیکن سوئچ آن ہوتے ہی سب طرف روشنی ہی روشنی بکھر گی- جب نوجوان نے پہلی بار غور سے لڑکی کو ورانڈے میں دیکھا تو نگاہ لڑکی کے چہرے پر اٹک کر رہ گی- ایسا کمسن حسن دیکھ کر بھلا کون خاموش رہ سکتا تھا- سبحان الله!
لڑکی نے بھی تھرتھراتی-کانپتی نگاہوں سے نوجوان کو اڑتی ہوی نگاہ سے دیکھا اور گردن جھکا لی-لیکن لڑکے کو لڑکی پر بہت غصّہ آنے لگا تھا."مرنےآئی تھیں؟ بزدل ہو! کہیں ایسے ھار ما نی جاتی ہے-کربلا کا واقعہ یاد کر لیتیں- انھوں نے بھی قربانیاں دی تھیں-انھیں کی ہی وجہ سے آج دنیا میں اسلام زندہ ہے-اور تم....؟"
" میں بہت ڈر گی تھی بابو جی-" لڑکی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، "زندگی کے سارے سرے الجھ گئے تھے- ھر طرف اندھیرا تھا- میں کیا کرتی؟' وہ بھربھراکر رو پڑی- آپنے مجھے کیوں بچا لیا، مر جانے دیا ہوتا-"
"اب جاکر چپ چاپ سو جاو، لیکن پہلے کچھ کھا پی لینا-- پتہ نہیں کب سےبہوکھی ہوگی- الماری میں برڈ، شہد اور بٹرفرج میں رکھا ہوگا، کھا لینا- آرام سے سسونا، صبح بات کرینگے- خدا حافظ..."
--------------
آنکھوں میں نیند نہیں تھی- جب بھی ٹرین گزرتی، لڑکی ہڑبڑاکراٹھ بیٹھتی-کھڑکیاں بجنے لگ جاتیں، پلنگ، دیواریں ہلنے لگتیں، ٹرین کی دھمک سے اسکا اپنا سارا وجود کانپنے لگ جاتا-کانٹے، ڈرتے بڑی مشکل سے اس نے اپنے کپڑے اتارکرنوجوان شخص کے کپڑے جو اسی کمرہ کی کھونٹیوں پرٹنگے ہوے تھے، زیبتن کے تھے، نہانے دھونے سے قبل اس نے پہلے اپنے کپڑے دھوکر پھیلاے تاکہ وہ سوکھ جایں- وہ نظر اٹھاکر ڈری ڈری آنکھوں سے رہ رہ کراپنے ارد گرد دیکھتی پھر گیلے کپڑوں کو دھونے لگ جاتی، اور پھر نوجوان شخص کے کپڑوں کووہ چومنے لگ جاتی-یہ کپڑے بھی اسی فرشتہ کے ہی تو ہیں، انہوں نے ہی تو اپنا ٹھکانہ دیکر اسے نی زندگی دی ہے- ان کپڑون کو پہن کراس میں اچانک کتنی تبدیلی آ گئی ہے- سرائیتکر چکی ہے- چند گھنٹوں میں ہی اسے اس گھر سے کتنا اپناپن سا محصوص ہونے لگا تھا -مای ماں سہی کہتی تھیں، دنیا بدصورت نہیں ہے، کچھ لوگ کردار سے بدصور ہو سکتے ہیں- صاحب تو فرشتہ ہیں-
پھر وہ ایسے گھوڈے بیچکرسوی کہ اسے کچھ یاد ہی نہیں رہا- جب وہ اٹھی تودور سے آ نے والی اذان کانوں میں گونج رہی تھی- اس نے من ہی من کلمہ پڑھا، ھتہیلیاں چومیں، اور اٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے اور چھوڑنے لگی- اذان ختم ہو چکی تھی-اسنے اپنے آپسے کہا،اٹھ ریشمہ، نیے دن کی شروعات کر،اللہ تیرا ساتھ دیگا- نہا دھوکر کپڑے بدل، نماز پڑھ- اور اپنی زممیداریاں سنبھال-یہ گھر تیرے لئے الله کی کوئی نشانی ہے- اسکا شکر ادا کر اور اتنا بڑبڑاکروہ جہٹ سے اٹھکر کھدی ہو گی-
نوجوان کی آواز میں ابھی ماحول میں قرآنی آیتیں گونج ہی رہے تھیں کہ ڈوربیل بج اٹھی-کاجوان نے جواب دیا "آیاچودھری-"
آنگن میں لگے ہتھے والے نل کے چلاے جانے اور دودھ کے برتن کو دھونے تک کا منظر لڑکی برابر دیکھ رہی تھی- -لڑکی کمرہ سے باہرنکلنا چاہتی تھی لیکن کسی اجنبی خوف سے وہ باہر نہیں نکلی-اس نےگددی کی باتیں بھی سن لی تھیں- گددی نے پوچھا تھا، "امما جی آئ ہیں، دودھ کچھ بڑھا کر دیدوں؟' نوجوان نے جو کہا، وہ اسکی سمجھ میں نہیں آیا جانے کیا کہا، کچھ سنآی نہیں دیا-صبح سویرے آنگن میں پرندوں کا شور کونجنے لگا تھا- لڑکی نے عرصۂ بعد کویل کو کوکتے سنا، امرود کے پیڈ پر گلہری کے جوڑے کو کودتے پھاندتے دیکھا- شآل آوڈھے، دودھ کا برتن لیے باورچی خانے کی طرف چلے گئے-اسنے بھی ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور صاف صفائی میں مصروف ہو گی- لیکن جب اسے لگا کہ بابو جی اپنے کمرہ میں جاکر بند ہو گئے ہیں تب اسنے کچن کی صفائی شروع کر دی- دودھ گرم کیا، برڈ سینکی، رات کے برتن دھوے اور کچن کو سلیقے سے سجاکر ورانڈے میں میز-کرسی لگا دی- اسی بیچ دروازہ پر پھر کسی نے دستک دے دی-لیکن ریشمہ نے دروازہ نہیں کھولا- کوئی اخبار سرکآکرچلا گیا تھا-
نوجوان کمرہ سے باہر نکل کر باہر ورانڈہ میں آیا- نکلے تو سکتہ میں آ گئے-بآ قآیدہ ناشتے کی میز سجی ہوئ تھی-ورانڈہ، آنگن اور کچن چمک رہے تھے- 'کمال ہے- کیسی لڑکی ہے یہ؟'
"وہ! ریشمہ جی، آپنے تو کمال کر دیا-کبآڈ کے مکان کو گھر بنا دیا- آداب! شآعر بھی ہوں میں- بھائ سبحان اللہ -میرے کمرہ میں قران بھی ہے اور نماز بھی، ضرور محصوص کریں تو آپ ادھر جا سکتی ہیں-"
"فی الحال اپکا ناشتہ تیار ہے-"ریشمہ نے شرماتے ہوے کھا-اور مسکرا دی
['دل دریا دریا' کی 'چوتھی کڈی' اگلی بار .....
Dr. Z. A. Zaidi Ranjan Zaidi
12:23 pm (3 मिनट पहले) ناول : تہ آب
https://kathaanantah.blogspot.com/2023/11/ranjan-zaidi.htmln/
پانچ /پیج-٢٨
'انجنا ولاس' ، ہائی سرکل سوسایٹی، ہائی پروفائل ریزیڈشیل لینڈمارک -انجنا ولاس میں زندگی کی ہر وہ شہ موجود تھی جس کی آج کےزمانہ میں آدمی کو ضرورت ہوتی ہے- پول، جم، یوگا موٹیویشن روم، ٹیبل پول، کلب، لایبریری، کاروں کے لئے پارکنگ، سکیوریٹی وغیرہ وغیرہ سبھی آسائیشیں مہییا تھین. لیکن اس ولا میں جس چیز کی کمی تھی وہ تھا ذہنی سکون- وہاں سکون نہیں تھا-ہر کوئی بہاگ رہا تھا-ہر کوئی نی رفتار کی تلاش میں تھا-پتہ پھر بھی نہیں چلتا تھا کہ منزل کا اختتام کیا ہے، کہاں ہے اور کب تک
خوبصورت، ہرے بھرے پھلدار درختوں سے گھری سوسایٹی کے قددےآدم آہنی گیٹ کے دایں سیرے سےپام کے درختوں کی ایک لمبی قطار پوری سوسایٹی کو اپنے آغوش میں لئے ہوےتھی- ہر طرف جامون، نیم، امرود اور آم کے درختوں سے گھرے دو کونوں میں ایک کونے پر پیپل اور دوسرے پر برگد کا درخت پھیلتے جا رہے تھے- پیپل کے سامنے ایک بڑا سا نیا مندر بھی تھا-
گیٹ سے ہی شروع ہونے والے ویلاز کی قطارمیں یکدم پہلی لین کے پہلے الاٹی چنے جانے والوں میں ایک تھیں ایڈووکیٹ سوزی بریگینزہ-، پارک کی انٹری سے یکدم پہلے- اس ولا کے نامزدگان کی نیم-پلیٹ پر پیٹر برگنزا کا نام چھپا ہوا تھا یعنی پیٹر برگینزا (ریٹایرڈ) پولیس کمشنرتھے-
چونکہ (ریٹایرڈ) پولیس کمشنرکی ایک ہی بیٹی تھی سوزی بریگنزہ لیکن ایک دن اچانک نیے پولیس کمشنرکی جوائننگ کے سلسلے میں منعقد جشن کے دوران انھیں انٹیلجینس ڈپارٹمنٹ سے آے ایک افسرنے خبر دی کہ ان کی بیٹی سوزی برگینزہ نے پرانے شہر کے ایک بد نام زمانہ سیاسی پارٹی سے تعلّق رکھنے والے سینیر رہنما کنڈا سوامی ایّرکے داماد سےخفیہ طور پر کورٹ شپ کر لی ہے- اب وہ مس سوزی برنگزا کی جگہ پرمسیز سوزی برگنزا بن گی ہیں- جس شخص سے انکی کورٹشیپ ہوئی ہے اسکا نام جسونت کٹی ہےاور وہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈرکنڈہ سوامی ایّر کا پہلے سے داماد ہے اور اسکے دو بچچے بھی ہیں، ایک لڑکا اور ایک لڑکی-اسکی شادی کنڈہ سوامی کی بیٹی رتنا کٹی سے ہوئی تھی- اسکے باوجود خبر ہے کہ اب موحترمہ سوزی برگنزہ نے بھی اس سے شادی کر لی ہے اور وہ ابپریگنینٹ ہے- یعنی کنڈہ سوامی ایّر کی بیٹی رتنا کٹی انکی سوت بن چکی ہیں اور جنگ کا تبل بج چکا ہے-اس حادثے کی خبر جب کنڈہ سوامی اییر کے کانوں تک پہنچی تو وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو لیکر فکرمند ہو گیا-وہ اپنی بیٹی کا گھر برباد ہوتے کیسے دیکھ سکتا تھا ؟ چونکہ اسکے سامنے اسکی بیٹی نے ابھی تک اسکا کوئی مظاہرہ نہیں کیا تھا، اسلئے کنڈہ سوامی اییر بھی مسلہتان خاموش ہو گیا اور دنیا اپنی رفتار سے لگاتار گامزن رہی- اگر ایسے میں بات بگڈ جاتی تو میڈم سوزی برگنزہ کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا-اتفاق سے انہیں دنوں کورٹ کی چھٹیاں شروع ہو گیان اور میڈم سوزی برگنزہ اپنی ممی-پاپا کے ساتھ نانی کے یہاں دارجیلنگ چلی گئیں جہاں انکی موروثی جےدتیں تھیں یعانی انکا موروثی پوسٹ گریجویٹ کولج ، اسکولس اور ڈانس اکادمی وغیرہ اور وہان اپنی نانی کے ساتھ انکے کاموں میں ہاتھ بٹاےنگین، جڈیشیری کی تیّا ری کریگی
میدھاوی نے اپنےوالد کو کبھی نہیں دیکھا- جب تک وہ زندہ رہی، میدھاوی کے نام کے آگے فریزر کی جگہ ڈسوزا ہی لکھتی رہی، سوزی نے اس پر کبھی اعتراض بھی نہیں کیا- وہ خود بھی اپنے نام کے آگے کوئی لقب لگانا پسند نہیں کٹی تھی- سوزی کی بیٹی مدھاوی اب بھی تین لوگوں کے بیچ کسی شہزادی کی طرح جیتی آ رہی تھی-
پیٹر ڈسوزہ ولا کے گراونگ فلورپر اپنی بیوی میری ڈسوزہ اور نواسی مادھوی ڈسوزا کے ساتھ رہتےتھے-- میدھاوی اپنی نانی میری ڈسوزہ کے ماسٹر بیڈ روم سے لگے کمرہ میں رہتی آ رہی تھی جس میں ایک اسٹڈی اور ایک گیسٹ لیونگ روم بھیہوا کرتا تھا -جسکا اوپر، پہلے ہی ذکر کیا جا چکا ہے-
میڈم سوزی ڈسوزا فرسٹ فلور پر رہتی ہیں جہاں ایک بڑا سا اسٹڈی روم، تین بڈ روم اور ایک بڑا سا ہال ہے- اسی فلور پرسبکا لوونگ پیٹ 'سنوپی' کا بھی لیونگ روم ہے-جب تک مادھاوی زندہ رہی، سنوپی اپنے لیونگ روم میں کم سوزی کے کمرہ میں زیادہ رہتا تھا-لیکن رات کو حال میں آ جاتا تھا کیونکہ وہا سے وہ ہر کمرے میں آسانی سے چلا جاتا تھا- لیکن اب وہ سوزی کے کمرے میں ہی مستقل سوتا جاگتا ہے- رات گئے وہ ٹیرس میں جاکر سوزی کے ساتھ بیٹھ بھی جاتا ہے-
سوزی آسمان کے تاروں کو دیکھتی ہے تو سنوپی بھی انھیں دیکھنے لگ جاتا ہے- جب سوزی سبک سبک کر روتی ہے تو وہ پاس آکر اپنے اگلے پیر سے ٹاول سرکا دیتا ہے-جیسے وہ سوزی کو سمجھا رہا ہو کہ دنیا سے چلے جانے والے لوگ لوٹکر نہیں آیا کرتے ہیئن، سوزی اسی ٹاول سے اپنی گیلی پلکیں صاف کر لیتی ہے اور سنوپی کو اپنے سینے سے لگاکر گود میں سلا لیتی ہے-
میدھاوی اب اس دنیا میں نہیں ہے- کافی وقت قبل وہ ایک بڑے جنسی حادثے کا شکار ہو چکی ہے- رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ کی لڑکوں نے مل کر اسکے ساتھ جنسی تشددت کیا تھا اور اسی تشدد میں آخرکار اسکی موت واقع ہو گئی تھی- یہ تب کا حادثہ ہے جب میڈم سوزی وکالت کرتے کرتے جوڈیشری کا حصّہ بن گی تھیں-
صوبائی چناو کے دوران مشہور سیاسی لیڈر کنڈہ سوامی aiiyar کے مجرمانہ کارناموں کے اوراق اخباروں کا حصّہ بن رہے تھے، انھیں دنوں کے بیچ خبر پھیلائی گی کہ کندہ سوامی اییرکے مشور ڈولوپروکاس کاٹچوگھر چھوڑکر کسی ہوٹل میں شفٹ ہو چکے ہیں اور وہ اپنی تیز-ترّاربیوی کو کبھی بھی طلاق دے سکتے ہیں-
یہ سچ تھا کہ کنڈہ سوامی آیییرکی اکلوتی بیٹی ایک سیایکو قسم کی خاتون تھی اور وہ آے دن اپنے شوہر وکاس شنکرن سے کسی نہ کسی مددے پر جھگڑا کرتی رہتی تھی، لیکن کنڈہ سوامی آیییرکے کریمنل بیکگراؤنڈ سے خایف داماد وکاس کاٹچواپنے بچچوں تک کےپاس بھی نہیں جا پا تا تھے- نتیجتن بیٹی الاشنکرن ڈرگ ایڈیکٹ ہو چکی تھی اور بیٹا شیبا شنکرن خراب سوحبت میں پڑکر جرایم کی دنیا کے قریب پہنچتا جا رہا تھا-
ہائی میڈم سوزی برگنزہ کی پڑتی اور خود انکے کورپشن کو لیکرجب اییر پتہ نہیں کیسے انکے شوہرکے بیچ ذاتی معاملوں کو لیکرعدالت میں کچھ مقددمے چل رہے تھے اور
انکے فیملی ڈسپیوٹ اخباروں کی سرخیاں بن رہے تھے-
سوزی نے تنگ آکراپنے سکون کے لئے اپنی نوکری سے جب استیفہ دیا تو انپرایک ایک کر کی حملے کے گئے لیکن وہ سماجی اور اصلاحی کاموں میں لگاتار مصروف رہیں- جب ان پرانکی دادی صاحبہ کا شدید دباو پڑا تو اور وہ شدید بیمار ہو گیئں تو مجبور ہوکر انھیں اپنے نانیحال لوٹ آنا پڑا اور اب وہ اپنےانسٹیٹیوشنل ایسیٹ کی فلاح بہبودی کے لئے ترققی یافتہ تنظیموں پر نظر بناے رکھنا چاہتی تھیں تکیہ پھاڈ پر رہنے والی قومیں بھی تیزی سے ترققی کرسکیں-
اردو ناول 'تہ اب'/ ڈاکٹر رنجن زیدی
-------------------سفحہ ٢٨
وہ بیچ رات کا کوئی پہررہا ہوگا-انجنا ولاس سوسایٹی کی ساری لایٹیں روشن تھیں- سامنے گیٹ سے اکا دکہ موٹرگاڈیاں کیمپس کے اندر اتی نظر آ جاتی تھیں- بہت سے فلیٹس کے روشندان اندھیروں میں ڈوب چکے تھے- کچھ کی کھڑکیوں کے اسپار سے چھن چھن کر
روشنی باہراتی دکھائی دیتی تھی-سوزی ایزی چیر پرپسری سننا ٹے میں ڈوبے آسمان کو یکٹک دیکھ رہی تھی-
آج سوسایٹی کے کمیونٹی حال میں سینیر سیٹیزنس ایسوسیشن کی اینول سیریمنی میں دوسرے پروگرامون کی طرح گھر کے سبھی لوگوں کے ساتھ سوسایٹی کے لوگوں نے بھی سوزی کے ڈایریکشن میں فیلمای گی ڈاکیومینٹری دیکھی تھی- سبھی لوگ سبک سبک کر رویے تھے- رات بھی سوزی کم اداس نہیں تھی- وہ اپنے فلورکے ٹیرس پر اسنوپی کے ساتھ ایزی چیرپر لیٹی تاروں سے بھرے آسمان کو لگاتاردیکھ رہی تھی-جب آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں تو آسمان سمندر جیسا لگنے لگتا -اسے یاد آیا، ایسی ہی ایک رات تھی، گڈڈی ماں کے ساتھ ایک دوسری ایزی چیرپرپر پسری افق پر بکھرے کروڑوں ستاروں کو دیکھتی ہوئی سوالوں کی جہڑی لگا رہی تھی-
'پتہ نہیں لوگ کہاں سے آتے ہیں مما ، کہاں چلے جاتے ہیں-لوٹ کرکوئی نہیں آتا-"
'میدھاوی بھی کہاں لوٹکر آنے والی ہے' سوزی نے اپنے آپ سے کہا- حلانکی یہ سوال گڈڈی نے پوچھ تھا-جب سے دنیا بنی ہے ممما، بسی ہے یہ کاینات، اس میں سب کچھ کتنا غیر یقینی سا ہوتا رہتا ہے- پانی جیسی شہ پیدہ ہو جاتی ہے، کبھی وہ شہ آسمان سے زمین پراترتی ہے، تو کبھی زمین سے ابلنے لگتی ہے، کبھی دریا بنتی ہے تو کبھی سمندر-کبھو پیاس بنکر جینے کی ضرورت بن جاتی ہےتو کہیں سہرا بنکر پانی کو سوک لیتی ہے- اسی طرح بھوکھ ہے. زندہی ہے، موت ہے- لیکن ہم مچّھر کو مسل دیتے ہیں، وہ غایب ہوجاتا ہے، کل میں بھی غایب ہو سکتی ہوں؟ میں کہا جاؤنگی مام؟ جس مچّھر کو مین نے مارا تھا، وہ بھی تو ابھی تک نہیں لوٹا-......"
سوزی بریگنزا گھٹنے میں سرڈالکر بھربھراکر رو پڑتی ہیں-'تو کتنے سخت سوال کیا کرتی تھی گڈڈی-تجھے ایک بار بھی اپنی مممہ پر ترس نہیں آتا تھا بچچے؟ ' وہ دیکھتی ہے ، تاروں کی بھیڈ سے کوئی پچچل تارٹوٹ کر رینگتا ہوا گھنے اندھیروں میں گم ہونے کا سفر طے کر رہا ہے-سنوپی سوزی کے پاؤں پر سر رکھے لمبے لمبے سانس بھر رہا ہے- گزرے دنوں کا کوئی منظر یکایک سامنے آ جاتا ہے- کانوں میں میدھاوی کی آواز گونجتی ہے-
"مما، تارے ٹوٹکرکہاں جاتے ہیں؟"
" اپنا ٹائم گزارکر شاید کسی گیلیکسی میں، کسی ڈیپ اسپیس میں یا ہماری زمین پر ٹھنڈا ہوکر کہیں، کسی حصّے پر-"
'پھر؟'
'پھر کیا، ٹوٹکر بکھر جاتے ہیں-'
'میری کلاس ٹیچر بتاتی تھیں،جو بچچے مر جاتے ہے، وہ تارے بنکر آسمان پر بکھر جاتے ہیں-موم! میں ستاروں سے آگے کی دنیا دیکھان چاہتی ہوں-'
'اسکے لئے تو تمہیں، ایسٹروناٹ بننا پڑیگا- بہت پڑھنا ہوگا...'
پچچہل تارہ خلہ میں آواز کے ساتھ غایب ہوجاتا ہے- جیسے ہی وہ آنکھوں کے سامنے سے اوجھل ہوتا ہے، آسمان پر خوفناک گڑگڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے-پھر لگتا ہے مانو پھا ڈ خوفناک آواز کے ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کرخلہ میں بکھرنے لگے ہوں-اس کے ساتھ ہی بہت سی آوازوں کا شور گونجنے لگ جاتا ہے-جیسے کسی ہائی وے پربہت سی موٹریں، کریں، ٹرکس اپس میں ایک ساتھ ٹکرا گئے ہوں-
انہیں خوفناک آوازوں میں گڈڈی بیبی یعنی مادھوی کی درد بھری چیخے، کراہیں کانوں سے ٹکراتی ہیں- لگتا ھے مانووہ کسی بڑی مصیبت میںکراہتے ہے ماں کو مدد کے لئے پکار رہی ہو- سنوپی گھبراکر ہڈبڈاہٹ میں کھڈا ہوکرسوالیہ نگاہوں سے سوزی کو دیکھنے لگا-سوزی بھی کچھ سہم گی- پورا بدن کانپنے لگا-وہ ریلنگ کی طرف لپکی مانو مادھوی ریلنگ سے چھلانگ لگانے جا رہی ہو-سوزی ما دھوی کو پکڑنے کے لئے ریلنگ سے ٹکراکر روک گی- کراہتے ہے اسنے بیٹی کو پکارا...گڈڈو، میری بچچی!
کانوں میں میدھاوی کی دور ہوتی ہوئی آواز سنای دی،"ممما!"
"ارے میرے بچچے، کہاں ہے تو؟"
"ہیلپ مے ممم! ممم! ممم! ممم! مجھے بہت دار لگ رہا...ہے-کوئی مدد نہیں کر رہا ہہے- میرے پاس آ جو ممما! پلیز....."
"مین.....میں میں آ رہی ہوں بچچے! ڈرنا نہی-تیری ماں ابھی زندہ ہے بچچے! ہیلو! ہیلو! " ہیلو! کہا ہے بتا؟ بول تو سہی!ہے رام! کیا ہو گیا ہے میری بچچی کو! ١٠٠ نمبر....
اور پھر پولیس کی گاڑیوں، ھوٹررون کا شور....ہر طرف بوٹن کی دھمک اور پولیس کی گاڑیوں کے شور نے پوری سوسا یٹی میں دھمال سا مچا دیا اورسوزی کے والدین رٹایرڈ پولیس کمشنر پیٹر برگنزہ، انکی زوجہ میری برگنزہ اور پڑوسی، سب آنکھیں ملتے ہوے سوزی کی مدد کے لئے دوڑپڑے-
سوزی اپما پرس اٹھاکر اپنے فلور سے دھڑدھاڑاتی ہوئی سیڑھیاں اترکر اپنی کارمیں جاکر بیٹھ گی- ڈرائیور اور اسکے پولس گارڈدم بھرمیں ہوٹرکی آوازون کی رفتارکے ساتھ بھی تیزرفتار سے گیٹ سے نکل کرمین سڈک پر نکل گی- یہاں سے نرسنگ ہوم کا فاصلہ تقریبن 8 کلو میٹر تھا- شہر کا بڑا نیشنل پریس پہلے ہی نرسنگھ ہوم کی عمارت بھر میں پھیل گیا تھا- چپپے چپپے پر پولیس آنے-جانے والوں پر نظر رکھے ہوے تھی-کار سے اترتے ہی وہ تیز قدموں سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھتی ہے-وکیل وکلا، شہر کے بااثر لوگ اور پولیس کے بدی افسر سوزی کے ساتھ وارڈ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن مادھوی آپریشن وارڈ میں زندگی اور موت سے جوجھ رہی تھی-سوزی کو اپریشن تھیٹر کے باہر روک لیا گیا تھا-وہ کالے چشمیں میں اپنا درد آنکھوں میں سنجو چکی تھی- پیٹربرنگزااپنے جانکاروں اور دوستوں کے ساتھ گیکری میں موجود تھے- ہر کوئی بہاگ دوڑرہا تھا-سوزی تک پلا پل کی خبریں پہنچائی جا رہی تھیں-لیکن وہ دیوار سے ٹکی آنسو بہا رہی تھی لیکن انھ کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا- میڈیا پاس میں آنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پولس انھیں دور کر دیتی تھی-تداپتی مچھلی کی طرح وہ آپریشن تھییٹرکی طرف بڑھتی تو پریس پاس آنے کی کوشش کرنے لگ جاتا-بڑی مشکل سے سوزی انھیں روکتی،"پلیز پیچھا مت کیجئے-اس وقت میں آپ لوگوں کے کسی بھی سوال کا جوان نہیں دے پاؤنگی-میری دماغی پریشانی کو آپ لوگ سمجھیں-میری بیٹی اس وقت زندگی ہے موت کے پلسرآت سے گزر رہی ہے- آپ سب جانتے ہیں کہ اسکے ساتھ کیا ہوا ہے." اتنا بھر کہتے ہی اسکی آواز تھرتھرانے لگتی تھی- بڑی تعداد میں مآدھوی کے کآ لیج-فیلوسٹوڈنٹس سوزی کو اپنی حفاظت میں لے لینا چاہتے تھے لیکن پولیس نے صبکو باہر کھدیڑ دیتی ہے- سوزی ہمّت جٹاکرطالبعلمون کو سمجھتی ہے،"اس وقت ہم سبکی ایک ہی پرایرٹی ہے ہی کسی بھی طرح سے میری بیٹی بچ جائے- جو آپ سبکی دوست ہے- اسے خطرے سے باہر آ جانے دیجئے-پلیز!اسکے لئے اسوقت آپ سب کی پرآرتھناؤں، دعاؤں اورمدد کیضرورت ہے- لیو می الوں- پلیز !"
ایسے حالت میں کچھ فاصلے پر جھگگی بستی کے سنے بلوغیت کو پہنچنے کے قر یب عمروالے تیز ترّآ ر لڑکے غصّے میں کچھ گفتگو کرنے میں مصروف تھے لیکن پولس والوں کی ان پربرابر نظر ٹکی ہوئی تھی- ان میں ایک کا نام پیٹی، دوسرے کا کوکا تھا- پیٹی سوزی کی طرف عشآرہ کار بتا رہا تھا کہ یہی وہ بیبی جی کی میڈم جی ہے جنکی بیٹی کے ساتھ یہ کآنڈ ہوا ہے- اور لوگوں کے بارے میں ہم نہیں جانتے---"
"پین بولے تو پیٹی، یہ پولیس وآلے اپن کوکآے کو گھورتا ہے- کیا اپپن نے تیری بیببیکا ریپ کیا ہے ؟ بولے تو....."
"ایسا کآے کو بولتا؟ پولس تو شک کریگی- اپن جھگگی بستی کا پوٹٹا جو ہے-اپن لوگ ادرچ کآیے کو آیا؟ "
"سالے نامرد! "کوکا نے دانت پیستے ہوے کہا،"اپپن کے سامنے یگا تو چیر کے رکھ دیگا میں-کیا؟ پن پولس اپپن کو کآے کو دیکھتی بآششا .... "
" پولیس جانتی ہے کہ تو ڈرگ کیریرہے.ادھر سے ادھر ڈرگ پہونچانا " پیٹی نے گردن جھکآے جھکآے کہا-
"ڈرگ کیریر بولے تو؟" اسی وقت ایک نرس فائل لیکرگللیبازچھوکروں کے پاس سے ہوکر دورے موڈ سے آ وجھل ھو جاتی ہے- لڑکے گیٹ کی طرف ابھی بڑھتے ہی ہیں کہ ایک سب انسپیکٹر کڑککر لڑکوں کو روک لیتا ہے،"روک...!"
"کہان رہتا ہے؟"
"جیجے کولونی میں...' پیٹی جواب دیتا ہے-
"کب سے؟"
"تم ادھر نوا نوا آیا ہے-اسلئے پوچھتا ہے سآب! بچچا بچچا جانتا ہے کوکا جادوگر کو-" جواب کوکا دیتا ہے." یہ پیٹی اپن کا مآ سٹر ہے- جیل بیبی پیٹی..."
"ایوننگ ا سکول کا سٹوڈنٹ ہوں صاب، -" پیٹی نےبا ادب جواب دیا-".....اور ٹیشن پلیٹفورم کوچنگ کا میمبربھی- یہ کوکا بھی پڑھنے کو آتا-"
"میں ....کوکا نے کہا،"میں روڈ پرمجمہ لگاتا ہے صاب! یہ اپن کا مآسٹربوٹ پالش کرتا، اور کچھ ؟"
"آو ہو! بڑے روب سے بات کرتا ہے پولس سے -اکڑتا بھی ہے- یہ نہیں بتایا کھ کہ تو ڈرگ پیڈلربھی ہے-ڈریگ کوکئی.... "
"جانتا ہے تو اپن سے پوچھتا کآے کو ہے؟"
" پوچھنے کا، اگے بھو پووچہنے کا-بتآیگا بھی تو! شہر چھوڑکر جانے کا نہیں- گیا تو ترا انکاونٹر کر دیگا- میں انسپکٹر شیامراو سآونت- آنکہ نیچے بات کرنے کا-بات تیرے کو سمجھ میں آئی کی نی-جواب دے!کل جس چھوکری کے ساتھ گینگ ریپ ہوا ہے، ترا اسے کیا سمبندھ ہے؟ جھوٹھ بولیگا تو ادرچ مآ ر مار کے لٹکا دیگا...."
"مین اسے جانتا ہے-" پیٹی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈالکر جواب دیا-پالش کرتا ہے میں-روا پارٹی میں پہلی بار ملا تھا میں-"
"اور تیرے سے ؟" انسپکٹر نے کوکا کے چہرے پر آنکھیں گڈاتے ہوے پوچھا-
"ابھی میرے کو ڈرگ کوکی بولا تھا-پھر کے کو پوچھتا ہے صاب؟"
" میں الا میڈم اور اسکے دوستوں کے اے کم کرتا تھا- میدھآوی بیبی الا میڈم کا نیا فرینڈ ہے-بس اپن کے پاس اتنائچ معلومات ہے- آپ بولتا تو شہر نہیں چھوڑتا- یہ شہر ہی تو اپن کا مآی باپ ہے-کیدر جاےگا میں؟"
"وکٹم سے جتنا دور رہیگا، تیری صیحت کے لئے اتنا ہی ٹھیک رہیگا- اگر یہ بات بھول جاےگا تو تیرے کو یہ انسپکٹر شیام راؤ سآ ونت پچھاڑی میں گولی ڈال دیگا-تیرے کو میری بات سمجھ میں آی کہ نہیں؟" انسپکٹر شیام راؤ سآ ونت نے کالے شیشوں والی عینک سے دیکھا، غصصے میں پیٹی کی دونوں مٹٹھیاں کستی جا رہی تھیں-اسکے باوجود اسکی انکهین
انسپکٹر شیام راؤ سآ ونت کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھیں- "گهور مت، خبری بنےگا؟"
"نہیں!" جواب کوکا نے دیا- اپن نمبر دو کا دھندھا مجبوری میں کرتا ہے صاب -اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ پولس سے نفرت نہیں کرتا میں- نفرت میرے کو آ گے بڑھآ تی ہے-جیسے دیوار میں امیتابھ بچچن کو دیتی تھی-چورسپاہی کے کھیل میں میرے کو مات دے سکتے ہو صاب، پر کوکا کو خبری نہیں بنا سکتے، فل اسٹاپ! چلتا ہے مین--- بیبی کا کیس دیکھو صاب، بہت کچھ ملیگا اس میں، جے ہند صاب!"
اپنے لمبے قدم بڑھاتا ہوا کوکا پیٹی کے ساتھ باہر نکل گیا- وہ مدکر یہ بھی نہیں دیکھتا کہ پولیس افسر اور دوسرے لوگ انھیں جاتے ہوے مین گیٹ کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں-
میدھاوی بیبی کے چہیتے پیٹ، جسکا نام سنوپی ہے، اچانک بھونکنے لگ جاتا ہے- سوزی چونک کر اسکی طرف دیکھتی ہے لیکن وہ مادھوی بیبی کے کمرے میں جاکرآنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے- نظروں کے سامنے مانو کوئی ادھوری فلم چلتے-چلتے اپنے اپ ٹوٹ جاتی ہے-ستاروں سے بھرے افق پر پورا چاند نکل چکا تھا- سوزی گھٹنون میں اپنا سر ڈالے
سبکنے لگی تھی-وہ ڈھا ڈین مارکر رونا چاھتی تھی لیکن کوئی شہ تھی جو اسے رونے سے روک رہی تھی-
اس وقت یکایک اسکے کان ان آوازوں کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جو نیچے گراؤنڈ فلورسے آ رہی ہوتی ہیں-غور سنا تو لگا مانو گراؤنڈ فلور پرہی مسٹر پیٹر برگنزہ اپنی بیوی میری برگنزہ سے پھر جھگڑنے لگے ہیں- اور مسز برینگنزہ جھگڑنے کے بیچ چیخ چللا رہی ہیں- شاید تب وہ اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں پیٹ رہے ہیں- سوزی اپنے غم بھولکر اپنی ماں کے غموں میں شریک ہونے کی غرض سے تیز قدم بڑاھتی ہوئی گراؤنڈ فلور میں پہنچ جاتی ہے اور پھر......!
پل کے اس پار کا دروازہ دھیرے سے کھلتا ہے-پردہ کی اوٹ سے کوی جھانکتا ہے لیکن پکڑے جانے کے ڈر سے وہ جلدی پردہ کے پیچھے چھپ جاتا ہے-"کوئی تھا....؟"
"کون تھا؟" انورمیاں نے پوچھا،" اور وہ سامنے والے مکان کے دروازہ کو دیکھنے لگے جو اسٹڈی کی طرف کھلتا تھا اور بالکنی کا ایک سرا سامنے والے مکان کے چھججے کوپل کی شکل میں جوڑ دیتا تھا-
یہ دو منزلہ مکان جگیاسه جی کا تھا-اوپر نیچے سات کمرے ہیں اس میں- ان دنوں سدانند پانڈے یعنی جیگیاسہ جی کے شوہر مکان کے بالائی حصّے میں پوجا پاٹھ کیا کرتے تھے-اسکے علاوہ بچچوں کے لئے وہ یوگا کے مفت اور سائنس کے ٹیٹوریل کلاسیز لیتےتھے، نیچے حال میں جگیاسہ جی لڑکیوں کے کلاسیز لیتی تھیں -
سدانند پانڈے زیادہ تر ارجن کے کمرہ میں رہتے تھے،اسٹڈی میں وہ بہت کم پڑھتے لکھتے تھے-لیکن دوسری منزل پر جو خوبصورت ہٹ ہے، اس میں صرف جگیاسہ جی کوہی جانے اوروہاں وقت بتانے کی اجازت تھی، اس کمرہ میں شازیہ کو بھی کبھی جانے کی اجازت نہیں دی گی تھی، تب بھی نہیں جب اسنے خودکشی کر لینن کا عہد کر لیا تھا- لمبی باتیں پھر کبھی یا آگے کہین ، کسی موڈ پر-
محمّدی آپا نےانورمیاں کے ساتھ چھت پرٹہلتے ہوے گملوں کی طرف رک کر اچانک جب سنجیدہ لہجہ میں یہ پوچھا کہ انو ر میاں، شازیہ کو شادی کے بعد کبھی کوئی دورہ وغیرہ تو نہیں پڑا؟"
انور نے چونک کرمحمّدی آپا کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اور پوچھا،"دورہ ؟ کیا کہ رہی ہین آپا؟ "انور کچھ بیچیں سے نظر انے لگے،"کیا شازیه کو دورے بھی پڑتے ہیں؟"
"یہ دورے پیدایشی نہیں ہیں انور .." آواز بیگم زینب کی تھی- وہ شازی کو دودھ پلانے کی غرض سے چھت پر آ گی تھیں- لیکن شازی اپنی ماں کے سینے سے چپکی ہوئی بے خبر سو رہی تھی-انور، محمّدی آپا اور بیگم زینب اندروالے کمرہ میں آکر بیٹھ گیی تہیں اورسیلینگ فین کا پنکھا آن کر دیا تھا-" کیا شازیہ ...".انورنے فکرمندانه لہجہ میں پوچھا،"شازیہ کو اس طرح کے فٹ کب کب پڑتے ہیں؟ "
"بہت دکھ جھیلے ہیں میری بچچی نے-" بھیگی پلکوں کو آنچل سے صاف کر بیگم زینب نے کہا،"چھوٹی تھی تو ماں چل بسیں، پانچ سال کی ہوئی تو ابّا چل بسے- شازیایہ میری گودوں میں پلی، بڑھی اورپڑھی- شازیہ کو کبھی پتہ ہی نہیں چلا کہ میں اسکی سگی خالا ہوں- نہ کنبہ میں اور نہ کہیں باہر- وہ مجھے شروع سے امماں ہی کہتی آ رہی ہے-اور خالو، یعنی ماسٹرصاحب کو ابّا کھکر پکارتی ہے- ہم نے بھی اسے کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ میرے بطن سے نہیں ہے-ہم جہاں بھی رہے، وہ ہمارے جسم کا حصّہ بنکر ہمارے ساتھ رہی- شادی کی، وہ بہی خوب دھوم دھام سے
"تو------؟" بیگم زینب پھر بھربھراکر رو پڑیں- اسی وقت چھتری والے کمرہ میں بغل والے مکان سے پنڈت سدانند پانڈے کی انگلی پکڑے ننھے جاوید میاں اور ماسٹر تقی حسن آ دھمکے-اچانک سبکے انے اور باتیں کرنے سے شازیہ جاگ گی اور چھتری والے کمرے میں داخل ہوکر شازی کو اٹھاکر کندھے سے لگا لیا-
"کچھ سنا آپ لوگوں نے؟" ماسٹر تقی حسن بڑے کمرہ کا پردہ اٹھاتے ہوے سبکو چونکا دیا، بولے،"تم لوگ یہاں زینے کے پاس کھڈے ہو اور ادھر ایک رشتہ منظوری کے لئے عدالت عالیہ کی مہر کا انتظار کرا رہا ہے-"
"سر! میں سمجھا نہیں- شازیہ تو....." انور میاں نے کچھ ششوپنج میں کچھ مبتلاہ دکھائی دے،" الیہ کی طبیعت ٹھیک ہے نہ ؟"
"ارے میاں، گھبرانے کی بات نہیں ہے-مسٹر چلے اندر چلتے ہے-
"رشتہ ؟ اتنی جلدی کون جوان ہو گیا بھائی ؟" محمّدی آپا حیرت سے ایک اک چہرے کو دیکھنے لگیں-"امان جی؟ ماسٹر صاحب ! بولے کچھ ؟" صدانند پانڈے جنگلہ پارکر اپنے مکان کی طرف چلے گے، جگیاسہ جی بھی آنکہہ بچاکر وہاں سے نکل لیں- شازیہ نے شازی کو کندھے پر اٹھایا اور نیچے جانے والی سیڑھیوں کی جانب مڈ گئی- انورمیاں بھی اسکے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترنے لگے- انھیں لگا جیسے کھلی ہوئی دھوپ کے نیچے کوئی سایہ آ گیا ہو-یہ اچانک سب کو کس مایوسی نے گھیر لیا ہے، کیا ایسا بھی کوئی راز ہے جسے وہ نہیں جانتے-سیڑھیوں سے محمّدی آپا کی آواز آئی اور وہ دونوں آنگن میں پہونچکر کھڈے محمّدی آپا کے اترنے کا انتظار کرنے لگے--"آپ جاکر شازیہ کو سنبھالئے،اسکی طبعیت کچھ ناسازلگ رہی ہے-اسے شادی کی خبروالا مذاق شاید پسند نہیں آیا-"

اس نابینہ عورت کو اکثر کوی غیر شعوری طور پردھکّہ دیکر اگے بڑھ جاتا تھا- کوئی پیچھے مڑکرشرمندگی سے 'معاف کرنا مائی؛ یا 'سوری' یا اسکا جلا ہوا چہرہ دیکھ کرکوئی 'کشما' مانگ لیتا- اورتب منہ آسمان کی جانب اٹھاکر وہ مسکرانے لگ جاتی تھی-(Afsahah) Main Dariya Darya /Dr Ranjan Zadi
जवाब देंहटाएं(دوسری قسط میں پڑھیں "کون تھی یہ بھکارن؟)
हटाएं