تویل افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدی ( 1 )
افسانہ ؛ میں دریا دریا /ڈر.رنجن زیدی
چھوٹا سا اسٹیشن تھا- دیرسے کوئی ٹرین نہیں گزری تھی- مائی نے کچھ ہلچل محسوس کی تو ھڈ بڈاکرپھٹے بانس کا ڈنڈا پھٹکاکرکھڈی ہوگی- شور قریب کانوں تک پھونچنے لگا تھا-ساڈی کے پللو سے اسنے سر کو ڈھک کر نپے- تلے قدم بڈھاتی ہوی مٹٹہی میں ڈنڈے کا سیرا پکڑے اسٹشن کے پلیٹفارم پرادھر ادھر ڈولتی ہوئی اپنی دوسری مٹھی کو ہوا میں اچھلتی ہوئی آگے آگے بڑھنے لگی تھی-اس نابینہ عورت کو اکثر کوی غیر شعوری طور پردھکّہ دیکر اگے بڑھ جاتا تھا- کوئی پیچھے مڑکرشرمندگی سے 'معاف کرنا مائی؛ یا 'سوری' یا اسکا جلا ہوا چہرہ دیکھ کرکوئی 'کشما' مانگ لیتا- اورتب منہ آسمان کی جانب اٹھاکر وہ مسکرانے لگ جاتی تھی-
مائ، یپلیٹفارم کے شور شرابے میں بھی ڈونگرکی بیساکھیوں کی ٹخ ٹخ کی آواز کو پہچان لیتی تھی-وہ یہ بھی جان لیتی تھی کہ اس آواز کا فاصلہ کتنا ہے- یہ آواز اسی کی ہے یا کسی اور کی- آواز جب قریب آکرخاموش ہو گی تب اسے معلوم ہو گیا کہ ڈونگراسکے پاس آکر روک گیا ہے-"آگے آ گئی ہے مائی، پیچھے سرک لے-ٹرین کی ہوا نیچے گرا دیگی. گھمنڈ سے بھہری ہواہیں ہم بھکاھریوں کواپنے ساتھ نہیں رکھتی ہیں، بدی لوگوں کی اججت کا معاملہ ہوتا ہے، پیچھے ہٹ لے، ترین سر پر ہے..."
گاڑی کے لگتے ہی ڈنگڑی بھیکھ مانگنا شروع کر دیتا ہے- 'رام جی بھلا کرینگے، نے گھر میں بلاینگے-مودی جی کی مورتی کے درشن ہونگے....ایک ٹیم کی روٹی کا سوال ہے بابا،....آپکو بھگوان دیگا..."کھنکھار کر ڈنگڑی نے مائی کو ڈانٹ لگائی،"پیچھے ہٹکرمانگ...سنگل ہو گیا ہے-"
"کیتی بار کہا ہے کہ صحیح بولا کر- سنگل نہی سگنل-" مائی نے ہنستے ہوے ٹوکا،" لے میں پیچھے ہو گی." اسی وقت ٹرین رینگنے لگی اور شور تیز ہونے لگا- کسی نے پلیٹفورم پر ہی مائی کو ایک کمّل ، چادر اور ٥٠٠ روپے کے نوٹ دے تو وہ ہنسنے لگی، "بھگوان بھلا کرینگے، جگ جگ جیو-" اسنے ڈنڈے سے ٹٹولکر ڈونگر کو پکارا،"کہاں ہے...ٹرین تو گی؟"
"جواب ملا،" کوئی بہت سامان دے گیا ہے، کھانا بھی، تو گیٹ کی طرف چل، میں باہرپاکڑ کے نیچے آتا ہوں-"
ڈونگڈ کے جاتے ہی مائی ڈنڈا پھٹکاتی ہوئ پلیت فورم سے باہر نکل جاتی ہے-'کیتی بھیڈ ہوجاتی ہے- انکھوالوں کو بھی دکھائی نہیں دیتا کہ اندھا دھنککے کھاکر گر سکتا ہے، گھٹنے چہل سکتے ہیں، جسم کا کوئی پرزہ ٹوٹ سکتا ہے، بس دوڈو، دوڈ کر، دوسرے کو گراکر اپنے سفر پر لگ جاؤ، منزل تک پہنچ جاؤ-دو منٹ کا اسٹیشن کتنا کچھ بتا جاتا ہے- ایک ٹرین آتی ہے، دوسری چلی جاتی ہے- جانے والی ٹرین پتہ نہیں کیوں آگے پلٹفورم پر کرتے ہی روک جاتی ہائی-لوگ ادھر کی بھاگ رہے ہوتے ہیں- مائی کا دل ڈھڈکنے لگتا ہے- ڈونگربھی شاید لوٹ رہا ہے- "ارے، تو گی نہیں، میں بھی آ گیا، سنا ہے کوئی ٹرین کے آ گیا ہے..."
مائی کا دل زور زور سے ڈھڈکنے لگ جاتا ہے-پاس اتی آوازوں کو وہ سن نے لگ جاتی ہے-"اف، سر کیسے کٹ کر جا گرا ہے-"
"کوئی بھلے گھر کی لڑکی ہے-"
"کہتے ہیں ، دیر سے وہ وہاں کھڈی ہوئ تھی- "
"پتہ نہیں کون تھی وہ، پولیس ہی پاتھ لگا سکتی ہے...."
مائی دھدہکتا دل لئے پیاو گھر کے پاس آگئی تھی-کش وہ اس لڑکی کو دیکھ پاتی،کش اسے بھی سب کچھ دکھائی دیتا- پیٹ سے ہوگی تو اسکا بچچہ ناجایز ہوگا، پریمی چھوڑکر بھاگ گیا ہوگا، ہو سکتا ہے بیاہی ہو، ساس نند سے اجزہوکر خودکشی کر لی ہوگی.ہو سکتا ہے، اسکی جبرن شادی کی جا رہی ہے....
جو ہاتھ اٹھا ہوا تھا، سکّوں سے خود بخود بھرتا چلا گیا-تھیلی میں سکّے ڈالکر اسنے پھر سے مٹھی ہوا میں اگے بڈھا دی-ٹرین اب کافی لٹ ہو چکی تھی-نعش کا پوسٹمارٹم ہونا ہے- پولیس کی دوڈین بڈھینگین-ڈونگر کی آواز سنائی دی، وہ مائی کی طرف آ رہا تھا،" رام رام، رام رام"- لیکن مائی کسی اجنبی آگ میں دہکنے لگی تھی- اسنے ہانپتے ہوے کہا، "میں جاتی ہے، تجھے بعد میں آنا ہو تو آ جانا-میں ٹیشن پر اب کھڈی نہیں رہ پاونگی-"
مائی اسٹیشن سے باہر نکل کر گھڈسل کی طرف چلی گی-سیشم کے درخت کے تھان پروہ بیٹھی تو غلام رسول تانگے والے کی گھوڈی ہنہنانے لگی- گردن ہلاتی تو گلے میں پڑے گھنگھرو گھنگھنا اٹھتے-مائی نے آواز دی، "غلام رسول...." گاڈھی خاموشی-مائی نے پھر آواز لگائی-"عایشہ،"جواب میں عایشہ کی آواز آئ،آ رہی ہوں مائی،آنٹا گوندھ رہی تھی، ہاتھ دھو رہی ہوں......ارے، تم ادھر، اودهر ٹیشن پر کون مر گیا ہے، گی نہیں؟" ایک سانس میں اسنے اپنا من ہلکا کر لیا- پوچھا، "سنا ہے کوئی جوان جویا تھی، ٹھیک سے تو تمہیں بتا سکتی ہو...
مائی نے اسکی بات مانو سنی انسنی کر دی-"مجھے جھگگی تک پہونچھا دے، کچھ چکّر سے آ رہے ہیں-آج گولی بھی نہیں کھائی مین نے-سر گھوم رہا ہے-"
"نانی!حکیم میاں کے یہاں چلیں؟"
مائی نے ٹٹولکر عایشہ کی بانه پاکد لی "چل، پہلے چال میں پہونچھا دے!" راستہ میں اسنے کہا،" رات نیند نہیں آئ تھی، شاید سردی لگ گئی ہے-بدلتے موسم کے ویوہارپر کبھی بھروسہ مت کرو-چھوڈ، پڑھائی چل رہی ہے نہ؟"
پوری تیاری سے امتحان مین اترؤنگی-دیکھ لینا نانی، اس بار بھی اچّھے نمبر لاونگی...." سنکر مائی نے راحت کی ٹھنڈی سانس بھری-تبھی ڈونگر کی آواز نے کان کے پردے تھرتھرا دے-؛جل-پا کھی اڈ بیوم تک، پہونچے چاند چکور، مرگی مچھلی کیا اڈے، ڈینے جا تڈواے-" مائی کا پسینہ چچلچھلا اٹھا-کندھے پر رکھے ہاتھ کا دباو تھوڈا کس گیا اور مائی جھککر جھگی کے اندر جاکر کھاٹ پر بیٹھ گی-عایشہ نے ڈنڈا سرہانے ٹیکاکررکھ دیا اور مائی نے پیسوں کی تھیلی عایشہ کے سپرد کرکولی، "گن، کتے پیسے ہیں؟" جواب تھا "٧٠....."
(دوسری قسط میں پڑھیں "کون تھی یہ خاتون؟)
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें